باسم رب المھدی
اسلام ،شیعہ ، امام مہدی۔ سيد سجاد اطهر موسوی تبتي

بخش های دیگر

فتوبلاگ من
پرسش و پاسخ
یادداشت بازدیدکنندگان
گالری وبلاگ

دوستان من


























مقام دوم:

اسی طرح ۲۵سال خانه نشینی کے بعد جب لوگ آپ کے دروازے پر آئے اور آپ کی حاکمیت کے لئے آمادگی کا اعلان کیا تو آپ نے جب قتل عثمان کے بعد خلافت کے لباس کو اپنے بدن زیبا کی خوشبو سے معطر کردیا تو آپ نے اس کی وجه لوگوں کی خواهش اور انکے هجوم آوری اور آمادگئی بیعت کو قرار دیا اور فرمایا: "اما والذی فلق الحبّ وبرأ النسمة ، لولا حضور الحاضر ، وقیام الحجة بوجود الناصر، وما اخذ الله علی العلماء الا یقارّوا علیٰ کظة ظالم ولا سغب مظلوم لالقیت حبلها علی غاربها، ولسقیت آخرها بکأس اولها ولالفیتم دنیا کم هٰذه ازهد عندی من عفطة عنز[1]" یعنی اس خدا کی قسم جس نے دانوں کو شگافته فرمایا اور زندگی کو خلق فرمایا ، اگر میری بیعت کرنے والوں کی بھیڑ اور ھجوم نه هوتے اور دوستوں نے مجھ پر نصرت کی حجّت تمام نه کی هوتی اور الله تعالیٰ نے علماء سے شکم پرستوں کی پُرخوری اور مظلوموں کی بھوک کی حالت میں رهنے کے وقت خاموش نه رهنے کا وعده نه لیا هوتا تو میں اس خلافت کی رسی کو اس کے اپنے کوهان پر پھینک کر ھنکا دیتا۔



[1] نهج البلاغه خطبه ۳ شقشقیه

بدون نظر

سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 17:17 - دوشنبه سیزدهم دی 1389