باسم رب المھدی
اسلام ،شیعہ ، امام مہدی۔ سيد سجاد اطهر موسوی تبتي

بخش های دیگر

فتوبلاگ من
پرسش و پاسخ
یادداشت بازدیدکنندگان
گالری وبلاگ

دوستان من


























یامہدی

تیرے  فراق  میں  ہم  بے قرار یامہدی

ہے   کب    تلک  سفر   انتظار  یامہدی

تیرے  بغیر گلستان  کہاں ؟  گل  زھرا

تیرے  بغیر  نہیں   کوئی  بہار  یامھدی

تیرے وجود کی برکت سے ہے جہاں باقی

و گر نہ   اتنا   کہاں   پا یدار؟  یا  مھدی

اے   نور  دیدہ  زھرا !  اے  منجی  عالم

ہزار  جان  ہو  تجھ  پر  نثار  یا  مھدی

اے ماحی  بدع   و  حامی  شریعت حق

بقی    و  حجت   پروردگار   یا  مھدی

نطام  عدل   الہی   کو اب  کریں رائج

نہیں ہے تجھ سا شریعت مدار یا مھدی

عدو ہیں آج صف آرا سبھی محازوں پر

اٹھاو  ہاتھ  میں  اب  ذوالفقار  یامھدی

مریض عشق کی خاطر تمہارا نام شفا

ہر ایک قلب کی ہے تو نکھار یا مھدی

ہزار  جان   گرامی   فدای  نام  تو  باد

ہزار  چشم   بہ  پایت  نثار  یا  مھدی

سناتا رہتا ہے دل تیرے ہجر کے قصے

ہے  دیدہ  در  رہ  تو  اشکبار  یا  مھدی

عدو کو جلنا ہے اطہر سو ان کو جلنے دو

ہے  لحظہ  لحظہ  ہمارا  شعار  یا  مھدی

نہم ربیع الاول ۱۴۳۱ مشہد مقدس

ایک نظر

سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1:47 - جمعه اول بهمن 1389


تیرے بغیر؟

جاءے وحشت ہے گلستاں ہو کہ گھر، تیرے بغیر

کیسے کٹ جاءے گا دنیا کا سفر تیرے بغیر

موج دریاءے محبت سے تلاطم نہ اٹھے

بے اثر ہے یہ سبھی فکر و نظر تیرے بغیر

تم تو سورج ہو مگر رات کا دکھ جانتے ہو

کتنی بے چینی میں ہوتا ہے سحر،تیرے بغیر

ماہ تاباں تیرےانوارسے ہی روشن ہے

ٹوٹ جاءے گا خلاوں میں قمر، تیرے بغیر

منتظر پلکوں پہ رہ جاتا ہے شب بھر شبنم

فرش پر گرتا ہے جب آءے سحر ،تیرے بغیر

آو اے دوست رفاقت کی ضرورت ہے ہمیں

دشت پر خار میں لاحق ہے خطر ،تیربغیر

جاوں کس سمت بیاباں میں تجھے پانے کو

ہر طرف گونجتی ہے آواز حذر، تیرے بغیر

عشق محبوب میں جاں دینے پہ ہم عازم ہیں

اب تو دشوار ہے لمحوں کا گزر ،تیرے بغیر

اے صبا یار سے کہہ دو یہ پیام اطہر

زندگی ہو گی میری کیسے بسر تیرے بغیر

بدون نظر

سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1:39 - جمعه اول بهمن 1389


یا صاحب الزمان

اے شمع دل ودیدۂ احرار ! کہاں ہو؟

اے نور فروزان شب تار ! کہاں ہو؟

اے باغ رسالت کے حسین پھولوں کا دستہ

اے وارث پیغمبر مختار ! کہاں ہو؟

مظلوم وستم دیدہ وبے چارہ ہوئے ہم

اے حامی واے مونس وغمخوار ! کہاں ہو؟

اس دور میں ہے جان ہتھیلی پہ ہماری

مشکل میں ہے جینا میرے سردار! کہاں ہو؟

ہے عشق کے ہونٹوں پہ سدا نام تمہارا

ہم سب ہیں تیرے طالب دیدار ! کہاں ہو؟

چھائی ہے گھٹا ظلم کی تاریک ہے دنیا

اے شمع عدالت کے نگہدار ! کہاں ہو؟

آمادۂ حرکت ہیں تیرے قافلہ والے

بس یہ ہے صدا قافلہ سالار کہاں ہو؟

اے منتقم خون شہیدان رۂ حق

اے نوحہ گر زینب غمخوار ! کہاں ہو؟

اے مہدی موعود خدا! حجت برحق

اے زمزمۂ عالم افکار ! کہاں ہو؟

مرجاؤں تو رجعت کی ہے امید اے آقا!

اطہر کو عطا ہوتیرا دیدار ، کہاں ہو؟

بدون نظر

سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1:38 - جمعه اول بهمن 1389


طرحی کلام

ہماری آنکھوں میں اب تلک ہے فراق وغم کا خمار باقی

دلیل ہےیہ کہ اب بھی ہیں کربلا کے کچھ جان نثار باقی

مسافران    دیار   مہدی(ع)  کنار  امید   جاں   بہ لب   ہے

اس آنے والے کی راہ تکتے ، دلوں میں ہے انتظار باقی

مئے  وصال  ظہور  پی کر ،  ہے  دستبردار  الفتوں  سے

دلوں میں رندوں کے ہر گھڑی ہے اس آنے والے کا پیار باقی

مدینۂ  فاضلہ  کے  حاکم  جو  ہے  تو  ہر  ایک منتظر ہیں

انہیں کے دم سے ہے دشت وصحرا ، سمندروکوہسار باقی

انہیں کے  دم سے  زمین معطر ، انہیں کے  دم سے  فلک ہے قائم

انہیں کے دم سے رُتوں میں رنگ ہے ، انہیں کے دم سے بہار باقی

وہ گر  نہ  ہوتے  تو کیسے  ممکن  تھا ؟ گلستاں  میں  بہار  آئے

انہیں کے دم سے گُلوں میں ہے رنگ وبو ،لطافت، نکھار باقی

نہ ہوتا  گر  لطف  سب  پہ انکا تو  کیسے انساں سکوں پاتے؟

انہیں کے دم سے ہے اس جہاں کے ہر ایک دل میں قرار باقی

غلاف کعبہ پہ لوگ شدّت سے اپنی نظریں جما رہے ہیں

خدا نے رکھا ہے اس میں شاہد ابھی تلک پردہ دار باقی

تمہارا مشتاق ہے زمانہ اے آنے والے اب آبھی جاؤ !

جہاں یہ انساں سکون پائے نہیں ہے کوئی دیار باقی

تمام امّت ،تمام نسلیں لگائے بیٹھے ہیں آس تجھ سے

ترے سوا ان ستم زدوں کا نہیں کوئی غمگسار باقی

جو تیرے بندوں کو تیرے لطف وکرم سے آکر نوازتا ہے

"خدایا ! خلقت میں اب تلک ہے وہ تیرا اک شاہکار باقی"  (تضمین)

ہماری آنکھوں سے تو اٹھادے یہ مصلحت کے نقاب ، آخر!

خدایا! تیرے ولی کی خاطر ہے اشکوں کا آبشار باقی

غرض جہاں بھی رہے ہمارا امام سالم رہے خدایا!

اور انکی خاطر ظہور تک ہو رواج لیل و نہار باقی

تری جوانی عطا ہے ان کی تو اس کی قیمت بھی جانو اطہر

ادا کرو اجر مصطفیٰ کا رہے تیرا اعتبار باقی

۱۵ شعبان ۱۴۳۱ مشہد مقدس

بدون نظر

سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1:36 - جمعه اول بهمن 1389


طلوع شمس امامت

کلام: شہید محسن نقوی

اے فخر ابن مریم وسلطان فقر خو

تیرے کرم کا ابر برستا ہے چار سُو

تیرے لیے ہوائیں بھٹکتی ہیں کو بہ کو

تیرے لئے ہی چاند اترتا  ہے جوبجو !

پانی ترے لیے ہے سدا ارتعاش میں

سورج ہے تیرے نقش قدم کی تلاش میں

اےآسمان فکر بشر ، وجہ ذوالجلال

اے منزل خرد کا نشاں ، سرحد خیال

اے حُسن لایزال کی تزئین لازوال

رکھتا ہے مضطرب مجھے اکثر یہی سوال

جب تو زمین واہل زمین کا نکھار ہے

عیسیٰ کو کیوں فلک پہ ترا انتظار ہے ؟

اے عکس خدوخالِ پیمبر جمال ِ حق

تیری ترنگ میں ہیں فضائیں شفق شفق

تیری عطا سے نبض جہاں میں سدا رمق

تیری کرن پڑے تو رُخ آفتاب فَق

تیرے نفس کی آنچ دل خشک وتر میں ہے !

تیرے ہی گیسوؤں کی تجلی سحر میں ہے!!

تو مسکرا پڑے تو خزاں رنگ رنگ ہو

تو چُپ رہے تو سارا جہاں مثل سنگ ہو

تو بول اُٹھے تو نطق جہاں ساز دَنگ ہو

ہر دل میں کیوں نہ تیری "ولا" کی امنگ ہو

میں کیوں نہ تیرا شکر کروں بات بات میں

ہر سانس تیرے دَر سے ملی ہے زکواۃ میں

تیرے حشم سے رنگ فلک لاجورد ہے

مہتاب تیرے حسن کے پرتو سےزرد ہے

موج ہوائے خلد ترے دم سے سرد ہے

محشر کی دُھوپ کیا؟ تیرے قدموں کی گرد ہے

تیرا کرم بہشت بریں کا سُہاگ ہے

تیرا غضب ہی اصل میں دوزخ کی آگ ہے

اے باغ عسکری کے مقدس ترین پھول

اے کعبۂ فروع نظر ، قبلۂ اصول!

آ، ہم سے کر خراج دل وجاں کبھی وصول

تیرے بغیر ہم کو قیامت نہیں قبول

دنیا نہ مال وزر نہ وزارت کےواسطے

ہم جی رہے ہیں تیری زیارت کے واسطے

مولا تیرے حجاب معانی کی خیر ہو

تیرے کرم کی، تیری کہانی کی خیر ہو

تیرے خرام تیری روانی کی خیر ہو

نرجس کا لال تیری جوانی کی خیر ہو

ممکن ہے اپنی موت نہایت قریب ہو !

اک شب تو خواب ہی میں زیارت نصیب ہو

اے آفتاب مطلع ہستی ، ابھر کبھی

اے چہرۂ مزاج دو عالم نکھر کبھی

اے عکس حق ، فلک سےادھر بھی اتر کبھی

اے رونق نُمو ، لے ہماری خبر کبھی

قسمت کی سرنوشت کو ٹوکے ہوئے ہیں ہم

تیرے لئے تو موت کو روکے ہوئے ہیں ہم

اب بڑھ چلا ہے ذہن ودل وجاں میں اضطراب

پیدا ہیں شش جہات میں آثار انقلاب

اب ماند پڑ رہی ہے زمانے کی آب وتاب

اپنے رُخ حسیں سے اُٹھا تُو بھی اَب نقاب

ہرسُو یزیدیت کی کدورت ہے اِن دنوں

مولا ! تیری شدید ضرورت ہے ان دنوں

نسل ستم ہے در پئے آزار ، اب تو آ

پھر سج رہے ہیں ظلم کے دربار ، اب تو آ

پھر آگ پھر وہی درودیوار ، اب تو آ

کعبے پہ پھر ہے ظلم کی یلغار ، اب تو آ

دِن ڈھل رہا ہے ، وقت کو تازہ اُڑان دے

آ "اے امام عصر" حرم میں "اذان" دے

از کتاب "فرات فکر"

بدون نظر

سيد سجاد اطهر موسوي تبتي | 1:31 - جمعه اول بهمن 1389